کعبہ میرے آگے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے
جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستیِ اشیا مرے آگے
ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
گِھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
مت پوچھ کے کیا حال ہے میرا تیرے پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا
کیوں کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے میرا کام
مجنوں کو برا کہتی ہے لٙیلا مرے آگے
ہے موجزن اک قلزمِ خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیٔے کیا کیا مرے آگے
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
ہم پیشہ وہم مشرب و ہمراز ہے میرا
غالب کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
مرزا اسد اللہ خان غالب