محمود غزنوی کی بیاض سے
تو تو کہتا تھا تجھے اس نے بھلایا ہوا ہے
آج وہ تیرے جنازے پہ تو ، آیا ہوا ہے
اُجرتیں مل گئیں ، صدیوں کے سفر کی مجھ کو
جب کہا اس نے ، کہ ، کیا حال بنایا ہوا ہے ؟
مِرا مُولا مجھے دوزخ میں نہیں ڈالے گا
میں نے روتے ہوئے لوگوں کو ہنسایا ہوا ہے
یہ ترے خط ہیں پڑے یہ تری تصویریں ہیں
زندگی کیا ہے ؟ فقط ، کام چلایا ہوا ہے
میں تجھے اٹھ کے سلامی بھی نہیں دے سکتا
وقت ظالم مجھے کس موڑ پہ لایا ہوا ہے ؟
بات ساری نہ بتا دینا ، یہاں لوگوں کو
اس نے محفل میں ،مرا ہاتھ ، دبایا ہوا ہے
یہ تعلق بھی دعا ہے ترا تا دیر رہے
مرے دشمن سے اگر ہاتھ ملایا ہوا ہے
قبر سے اٹھنا پڑے گا تجھے اب تو غزنی
دیکھ اٹھ کر،کہ ،کوئی دیکھنے آیا ہوا ہے
محمود غزنی