عورت اور مرد
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اِن اَدیبوں کے اعصّاب پر عورت سوار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آدم سے لے کر اب تک ہر مَرد کے اعصّاب پر عورت سوار رہی ہے۔ اور کیوں نہ رہے؟ مرد کے اعصّاب پر کیا ہاتھی گھوڑوں کو سوار ہونا چاہیے؟
جب کبُوتر کبُوتریوں کو دیکھ کر گٹکتے ہیں تو مَرد عورتوں کو دیکھ کر ایک غزل یا افسانہ کیوں نہ لکھیں؟ عورتیں کبُوتریوں سے کہیں زیادہ دلچسپ ، خُوبصُورت اور فِکر خیز ہیں۔
کیا میں جُھوٹ کہتا ہوں؟
(سعادت حسن منٹو)