Home Top Ad

عشق اور کام

عشق اور کام
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے

جو عشق کو کام سمجھتے تھے

یا کام سے عاشقی کرتے تھے

ہم جیتے جی مصروف رہے

کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا

کام عشق کے آڑے آتا رہا

اور عشق کام سے الجھتا رہا

پھر آخر تنگ آکر ہم نے

دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا۔

فیض احمد فیض