Home Top Ad

جھوٹے یقیں

یقین 
مجھے یہ یقیں تھا
کہیں گر پڑا تو
زمانے میں اِک شخص ایسا بھی ہے جو
مجھے بھاگ کر بازووں میں بھرے گا 
مِرے جسم اور روح کے گھاؤ پر اِتنے پھاہےدھرے گا کہ میں درد کی شدتوں کو بُھلا کر وہیں ہنس پڑوں گا
اُسے تھام لوں گا
مگر میں گِرا تو مِرے گرد سارا زمانہ کھڑا تھا 
وہ جس پر یقیں تھا
وہی بس نہیں تھا
Copied