مجھے یہ یقیں تھا
کہیں گر پڑا تو
زمانے میں اِک شخص ایسا بھی ہے جو
مجھے بھاگ کر بازووں میں بھرے گا
مِرے جسم اور روح کے گھاؤ پر اِتنے پھاہےدھرے گا کہ میں درد کی شدتوں کو بُھلا کر وہیں ہنس پڑوں گا
اُسے تھام لوں گا
مگر میں گِرا تو مِرے گرد سارا زمانہ کھڑا تھا
وہ جس پر یقیں تھا
وہی بس نہیں تھا
Copied