Home Top Ad

پروین شاکر کے اشعار

پروین شاکر کے کچھ اشعار 
مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے مگر آج ہیں ہم جدا جدا
وە جدا ہوے تو سنور گئے ہم جدا ہوے تو بکھر گئے

کبھی رُک گئے کبھی چل دئیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے
یوں ہی عمر ساری گُزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے

کبھی نیند میں کبھی ہوش میں تو جہاں ملا تجھے دیکھ کر
نہ نظر ملی نہ زباں ہلی یوں ہی سر جُھکا کے گزر گئے

کبھی زلف پر کبھی چشم پر کبھی تیرے حسین وجود پر
جو پسند تھے میری کتاب میں وہ شعر سارے بکھر گئے

کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی ان کے در کبھی دربدر
غم عاشقی تیرا شکریہ ہم کہاں کہاں سے گزر گئے
پروین شاکر