Home Top Ad

طریق ‏مسیحائی

طریق مسیحائی
بچھڑ گیا ہوں مگر یاد کرتا رہتا ہوں 
کتاب چھوڑ چکا ہوں پڑھائی جاری ہے 

ترے علاوہ کہیں اور بھی ملوث ہوں 
تری وفا سے مری بے وفائی جاری ہے

عجیب خبط مسیحائی ہے کہ حیرت ہے 
مریض مر بھی چکا ہے دوائی جاری ہے