کوئی تو ہوتا
جو عید کے دن یہ پوچھ لیتا
یہ شیو کیونکر بڑھی ہوئی ہے
یہ الجھے بکھرے سے بال کیوں ہیں
سیاہ سوگی لباس پہنے یہ کس کے غم میں پڑے ہوئے ہو
کوئی تو ہوتا
جو عید کے دن گلے لگا کے یہ پوچھ لیتا
بتاو ایسے اُداس کیوں ہو
یہ روئی روئی سی سوجی آنکھیں
سیاہ حلقے
بتاو بھی ناں یہ سوگ کیسا
یہ روگ کیسا
کوئی تو ہوتا جو عید کے دن یہ پوچھ لیتا
میں اس کے شانے پہ سر ٹکا کر اسے بتاتا
میں زندگی سے نباہ کرتا کسی جگہ سے بھٹک گیا ہوں
میں تھک گیا ہوں