Home Top Ad

تمہارا ‏خیال ‏اور ‏موسم ‏

تیرے خیال کا موسم
‏فراقِ یار کی بارش، ملال کا موسم
ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم

وہ اک دعا میری، جو نامراد لوٹ آئی
زباں سےروٹھ گیا پھرسوال کاموسم

‏بہت دنوں سےمیرےنیم وادریچوں میں
ٹھہر گیا ہےتمہارے خیال کا موسم

جو بےیقیں ہوبہاریں اجڑبھی سکتی ہیں
تو آ کےدیکھ لےمیرے زوال کاموسم

‏محبتیں بھی تیری دھوپ چھاؤں جیسی ہیں
کبھی یہ ہجر،کبھی وصال کاموسم

کوئ ملاہی نہیں جسکو سونپتےمحسنؔ
ہم اپنےخواب کی خوشبو،خیال کاموسم