Home Top Ad

خیال ‏محبوب

خیال محبوب
کوئی فریاد تیرے دل میں ، دبی ھو جیسے
تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ھو جیسے

جاگتے جاگتے ، اِک عمر کٹی ھو جیسے
جان باقی ھےمگر سانس رُکی ھو جیسے

ھر ملاقات پہ ، محسوس یہی ھوتا ھے
مجھ سےکچھ تیری نظر پوچھ رہی ھو جیسے

راہ چلتے ھوئے ، اکثر یہ گمان ھوتا ھے
وہ نظر چھپ کےمجھےدیکھ رہی ھو جیسے

ایک لمحےمیں سِمٹ آیا، صدیوں کا سفر
زندگی  تیز ، بہت  تیز ، چلی ھو جیسے

اس طرح پہروں تجھےسوچتا رہتا ہوں میں
میری ہر سانس ، تیرے نام لکھی ھو جیسے