Home Top Ad

زندگی ‏کی ‏حقیقتیں

زندگی کی حقیقت
زِندگی کی مُٹھی سے


 رِیت جَب نِکل جاۓ
بھید اپنے جیون کا
 تَب سمجھ میں اتا ھے
سب سمجھ میں آتا ھے
اب سمجھ میں آتا ھے

پیار کی کہانی میں
کِس جگہ ٹھرنا تھا ؟
کِس سے بات کرنا تھی ؟
کِس کے ساتھ چلنا تھا ؟
کون سے وہ وعدے تھے ؟
جِن پہ جان دینا تھی
کِس جگہ بِکھرنا تھا ؟
کِس جگہ مُکرنا تھا ؟
کِس نے اِس کہانی میں
کِتنی دور چلنا تھا ؟
کِس نے چڑھتے سورج کے
ساتھ ساتھ ڈھلنا تھا ؟
اب سمجھ میں آتا ھے
اُس نے جو کہا تھا سب
ھم نے جو ُسنا تھا تب
کِس طرح ھلے تھے لب
کِس طرح کٹی تھی شب
ھم نے ان ُسنی کر دی
بات جو ضروری تھی
کِس قدر مکمل اور
کِس قدر ادھوری تھی
وہ جو اِک اِشارہ تھا
زکر جو ھمارا تھا
وہ جو اِک کنایہ تھا
جو سمجھ نہ آیا تھا
اب سمجھ میں آتا ھے

جان ھی کے دُشمن تھے
جاں سے جو پیارے تھے
ھم جہاں پہ جیتے تھے
اصل میں تو ھارے تھے
راہ جِس کو سمجھے ھم
راستہ نہیں تھا وہ
واسطہ دیا جِس کو
واسطہ نہیں تھا وہ
کِس نے رَد کیا ھم کو ؟
کِس نے کیوں بُلایا تھا ؟
جِس کو اِتنا سمجھےھم
کیوں سمجھ نہ آیا تھا ؟
اَب سمجھ میں آتا ھے
اَب سمجھ میں آیا جب 

زندگی اَکارت ھے
ایسی اِک تجارت ھے
جو دِیر سے سمجھ آیؑ
زندگی کے بھیدوں کو
ھم نے اب سمجھنا تھا
تَب سمجھ بھی آتی تو
ھم نے کَب سمجھنا تھا
آنکھ جَب پگھل جاۓ
اور -- شام ڈھل جاۓ
زِندگی کی مُٹھی سے
رِیت جَب نِکل جاۓ
بھید اپنے جیون کا
تَب سمجھ میں آتا ھے
سب سمجھ میں آتا ھے