Home Top Ad

ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ


ڈاکٹر کو کیا معلوم ؟


ﮈﺍﮐﭩﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ
ﻧﺎﺭﻣﻞ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﮨﮯ
ﺍﯾﻮﺭﯾﺞ ﺳﯽ ﺷﻮﮔﺮ ﮨﮯ
ﮨﺎﺭﭦ ﺑﯿﭩﺲ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﯿﮟ
ﮨﺎﺭﻣﻮﻥ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ
ﻧﺎﺭﻣﻞ ﮨﮯ ﺍﯼ ﺳﯽ ﺟﯽ
ﻧﺎﺭﻣﻞ ﮨﯿﮟ ﺑﯽ ﭘﯽ , ﭘﻠﺲ
ﺭﻭﺯ ﻭﺍﮎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ
ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﻮ
ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﮨﮯ؟
ﮐﺲ ﺑﻨﺎ ﭘﮧ ﮔﺮﺗﮯ ﮨﻮ؟
ﮐﺲ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭼﮑﺮ ﮨﯿﮟ،،،؟؟؟
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ؟؟؟؟؟؟
ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﻣﯿﮟ …..
ﺟﻮﮌ ﺟﻮﮌ ﺩﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ!
ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺍﮐﮭﮍﺗﯽ ﮨﮯ
ﺳﺐ ﺭﮔﯿﮟ ﭘﮭﮍﮐﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ؟؟؟؟؟؟
ﺍﮎ ﻣﺮﺽ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ!
ﺟﺲ ﻣﺮﺽ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ
ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺗﻦ ﻣﯿﮟ
ﺯﮨﺮ ﭘﮭﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ…….
ﺳﺮ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﻭﮞ ﺗﮏ
ﺍﯾﮏ ﭨﯿﺲ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ….
ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺎﭦ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ
ﺟﯿﺴﮯ
ﺁﺭﺍ ﻟﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ
ڈاکٹر سے کہہ دینا
یہ جو تھرمامیٹر ہے !
عشق کی حرارت کو
کب یہ ماپ سکتا ہے ؟؟
کان میں لگا کے جو
آلہ دل پہ رکھتے ہو
یہ کہاں بتائے گا ………
راز جو کہ اندر ہے
یہ فشارِ خوں میرا !
دیکھنے میں بہتر ہے
چاہتوں کے جذبے نے
آگ اس میں بھر دی ہے! !!!
خوش مزاج لگتا ہوں
بات بات ہنستا ہوں
تم نے کب سنی ہوں گی
چیخیں میرے ہنسنے کی !!!!!!!
آنسو گرتے دیکھے ہیں ؟
تم نے خوش مزاجی کے ؟؟؟؟؟؟
تم نے کب پڑھا ہوگا
طب کی ان کتابوں میں
کچھ مریض ہوتے ہیں
جو دیکھنے میں اچھے ہوں
جن کے جسم کی حدت
نارمل سی لگتی ہے
دل کی دھڑکنیں جن کی
ایک سر میں بجتی ہیں
خون کا بہاؤ بھی
ایک لے میں چلتا ہے
پھر بھی ایک دم ان کی
جاں نکل سی جاتی ہے
پھر بھی بس اچانک ہی
خوں میں آگ لگتی ہے
جانے کیوں اچانک وہ
چلتے چلتے گرتے ہیں ؟؟؟؟؟؟
میٹھی نیند سوتے میں
ہڑبڑا کے اٹھتے ہیں
بات کرتے کرتے وہ
بات بھول جاتے ہیں !!!!!
دو قدم چلیں ان کے
سانس پھول جاتے ہیں ……
تم نے کب پڑھا ہو گا
طب کی ان کتابوں میں
ہوچھتے ہو بتلائیں
یہ مریض کیسے ہیں ؟
یہ کہاں پہ ہوتے ہیں ؟
کیا علاج ہے ان کا ؟
ان کی کیا دوا دارو ؟
مرض ہے محبت کا !!!!!
عشق کے ہیں سودائی……
دلبروں کے کوچے میں
ان کو دیکھ سکتے ہو ……
اک جھلک جو مل جائے یار کی
تو
جی جائیں
ہجر زہر کا ٹیکا ……
وصل ہے دوا ان کی …….
ڈاکٹر سے کہہ دینا !
تم نے کب پڑھا ہو گا ؟
طب کی ان کتابوں میں !!!!